Strasmore Research
تعلیمی مواد Matt Connorاز Matt Connor · data as of September 27, 2026 · refreshed weekly

AAPL ڈیویڈنڈ: پاکستانی سرمایہ کار کو کیا ملتا ہے

ایک AAPL حصص پر سہ ماہی ڈیویڈنڈ کتنا ہے، 30 فیصد امریکی ود ہولڈنگ کے بعد کھاتے میں کیا پہنچتا ہے، اور پاکستانی سرمایہ کار اسے روپوں میں کیسے گنتا ہے۔

اگر آپ پاکستان میں بیٹھ کر Apple کا ایک حصص رکھتے ہیں تو AAPL ڈیویڈنڈ آپ کے بروکریج کھاتے میں ہر سہ ماہی امریکی ڈالر کیش کی صورت آتا ہے، روپوں میں نہیں۔ تازہ ترین ادائیگی فی حصص 0.27 ڈالر رہی، جس کی ایکس ڈیویڈنڈ تاریخ Aug 10, 2026 اور ادائیگی کی تاریخ Aug 13, 2026 تھی۔ غیر امریکی (نان ریزیڈنٹ) کھاتے پر امریکہ کی قانونی ود ہولڈنگ شرح 30 فیصد ہے، اور اس کٹوتی کے بعد فی حصص 0.189 ڈالر کھاتے میں بچتا ہے۔

AAPL کا سہ ماہی ڈیویڈنڈ اس وقت کتنا ہے؟

ڈیویڈنڈ کمپنی کے منافع کا وہ حصہ ہے جو حصص داروں کو نقد ادا کیا جاتا ہے۔ Apple یہ ادائیگی سال میں چار بار کرتی ہے اور رقم ہمیشہ فی حصص کے حساب سے اعلان ہوتی ہے، یعنی آپ کے حصص کی تعداد سے ضرب دے کر آپ کی رقم بنتی ہے۔ نیچے کا پینل 2022 سے اب تک کی ہر ادائیگی ایکس ڈیویڈنڈ تاریخ کے ساتھ دکھاتا ہے۔

استفسار کریںAAPL کی سہ ماہی ڈیویڈنڈ ادائیگیاں، فی حصص امریکی ڈالر میں
ex_dateex_labelpay_labelusd_per_share
2022-02-04Feb 4, 2022Feb 10, 20220.22
2022-05-06May 6, 2022May 12, 20220.23
2022-08-05Aug 5, 2022Aug 11, 20220.23
2022-11-04Nov 4, 2022Nov 10, 20220.23
2023-02-10Feb 10, 2023Feb 16, 20230.23
2023-05-12May 12, 2023May 18, 20230.24
2023-08-11Aug 11, 2023Aug 17, 20230.24
2023-11-10Nov 10, 2023Nov 16, 20230.24
2024-02-09Feb 9, 2024Feb 15, 20240.24
2024-05-10May 10, 2024May 16, 20240.25
2024-08-12Aug 12, 2024Aug 15, 20240.25
2024-11-08Nov 8, 2024Nov 14, 20240.25
2025-02-10Feb 10, 2025Feb 13, 20250.25
2025-05-12May 12, 2025May 15, 20250.26
2025-08-11Aug 11, 2025Aug 14, 20250.26
2025-11-10Nov 10, 2025Nov 13, 20250.26
2026-02-09Feb 9, 2026Feb 12, 20260.26
2026-05-11May 11, 2026May 14, 20260.27
2026-08-10Aug 10, 2026Aug 13, 20260.27
ہر عدد کے پیچھے موجود درست SQL
SELECT
    toString(ex_dividend_date)                    AS ex_date,
    formatDateTime(ex_dividend_date, '%b %e, %Y') AS ex_label,
    formatDateTime(max(pay_date), '%b %e, %Y')    AS pay_label,
    round(toFloat64(max(cash_amount)), 4)         AS usd_per_share
FROM global_markets.stocks_dividends
WHERE ticker = 'AAPL'
  AND ex_dividend_date >= '2022-01-01'
  AND ex_dividend_date <= today()
GROUP BY ex_dividend_date
ORDER BY ex_dividend_date
خود چلا کر دیکھیں

اس فہرست میں 19 ادائیگیاں ہیں۔ پہلی قطار Feb 4, 2022 کی ہے، جہاں رقم 0.22 ڈالر فی حصص تھی، اور آخری قطار میں یہی رقم 0.27 ڈالر ہے۔ لکیر سیدھی نہیں، زینے کی شکل میں چڑھتی ہے: رقم عموماً سال میں ایک بار بدلتی ہے اور باقی تین سہ ماہیوں میں وہی عدد دہرایا جاتا ہے۔ ہر قطار میں دو تاریخیں الگ ہیں، ایکس ڈیویڈنڈ تاریخ اور ادائیگی کی تاریخ، اور نقد رقم کھاتے میں دوسری تاریخ پر آتی ہے۔ پوری ترتیب ایپل کا ڈیویڈنڈ اور اس کا شیڈول میں اور ایک ایک ادائیگی کا ریکارڈ AAPL ڈیویڈنڈ کی مکمل تاریخ میں موجود ہے۔

30 فیصد امریکی ود ہولڈنگ کے بعد ہاتھ میں کیا آتا ہے؟

امریکی حصص سے ملنے والا ڈیویڈنڈ امریکہ سے باہر رہنے والے کھاتے دار کے لیے نان ریزیڈنٹ آمدنی شمار ہوتا ہے۔ اس پر قانونی شرح 30 فیصد ہے اور یہ کٹوتی بروکر منبع پر خود کر لیتا ہے۔ آپ کے کھاتے میں کبھی پوری رقم آ کر پھر واپس نہیں جاتی: جو جمع ہوتا ہے وہ کٹوتی کے بعد کا عدد ہوتا ہے۔

استفسار کریںآخری چار ادائیگیاں: مجموعی رقم، 30 فیصد ود ہولڈنگ، اور خالص رقم (فی حصص، ڈالر)
ex_dateex_labelgross_usd_per_sharewithheld_usd_per_sharenet_usd_per_share
2026-08-10Aug 10, 20260.270.0810.189
2026-05-11May 11, 20260.270.0810.189
2026-02-09Feb 9, 20260.260.0780.182
2025-11-10Nov 10, 20250.260.0780.182
ہر عدد کے پیچھے موجود درست SQL
SELECT
    toString(ex_dividend_date)                    AS ex_date,
    formatDateTime(ex_dividend_date, '%b %e, %Y') AS ex_label,
    round(toFloat64(max(cash_amount)), 4)         AS gross_usd_per_share,
    round(toFloat64(max(cash_amount)) * 0.30, 4)  AS withheld_usd_per_share,
    round(toFloat64(max(cash_amount)) * 0.70, 4)  AS net_usd_per_share
FROM global_markets.stocks_dividends
WHERE ticker = 'AAPL'
  AND ex_dividend_date <= today()
GROUP BY ex_dividend_date
ORDER BY ex_dividend_date DESC
LIMIT 4
خود چلا کر دیکھیں

تازہ ترین ادائیگی پر مجموعی رقم 0.27 ڈالر فی حصص تھی۔ اس میں سے 0.081 ڈالر ود ہولڈنگ میں گیا اور 0.189 ڈالر کھاتے میں پہنچا۔ حساب لکیری ہے: سو حصص پر یہی تینوں اعداد سو گنا ہو جاتے ہیں، اور پانچ سو حصص پر پانچ سو گنا۔

کھاتہ کھولتے وقت بروکر آپ سے W-8BEN فارم بھرواتا ہے۔ یہ فارم آپ کی غیر امریکی رہائشی حیثیت ریکارڈ پر لاتا ہے۔ فارم موجود نہ ہونے کی صورت میں بروکر بیک اپ ود ہولڈنگ لگا سکتا ہے، جو 30 فیصد سے بھی بھاری بیٹھتی ہے۔ بعض ممالک کے امریکہ کے ساتھ ٹیکس معاہدے ہیں جن کے تحت شرح 30 فیصد سے کم ہو جاتی ہے، مگر رعایتی شرح صرف اُسی صورت میں لگتی ہے جب آپ کے بروکر کے پاس آپ کا مکمل فارم اور متعلقہ معاہدے کی شرح ریکارڈ پر ہو۔ اس صفحے پر پاکستان کے لیے کوئی مخصوص معاہدہ شرح نہیں دی جا رہی: اپنے بروکر کے ٹیکس سیکشن سے اور اپنے ٹیکس مشیر سے تصدیق کروا لیں۔ حساب کا ڈھانچہ دونوں صورتوں میں ایک ہی رہتا ہے، صرف کٹوتی کی فیصد بدلتی ہے۔ عمومی اصول غیر امریکی سرمایہ کاروں پر ڈیویڈنڈ ود ہولڈنگ ٹیکس میں تفصیل سے لکھے ہیں۔

یہ ڈالر روپوں میں کیا بنتے ہیں؟

پہلی بات صاف ہونی چاہیے۔ ڈیویڈنڈ آپ کے پاکستانی بینک اکاؤنٹ میں روپوں کی شکل میں نہیں آتا۔ یہ آپ کے بروکریج کھاتے کے کیش بیلنس میں ڈالر بن کر بیٹھ جاتا ہے۔ وہیں سے آپ اسے دوبارہ حصص خریدنے میں لگا سکتے ہیں، وہیں رہنے دے سکتے ہیں، یا اپنے بروکر کے بتائے ہوئے راستے سے پاکستان منگوا سکتے ہیں۔ روپے میں تبدیلی اُس دن ہوتی ہے جس دن نکلوانے کی درخواست پر عمل ہوتا ہے، اور شرح وہی لگتی ہے جو آپ کا بروکر یا وصول کرنے والا بینک اس دن لگاتا ہے۔ بیرونِ ملک سرمایہ کاری اور رقم کی واپسی سے جڑی کاغذی کارروائی اسٹیٹ بینک کے مقرر کردہ راستے اور آپ کے بروکر کی شرائط کے تحت چلتی ہے۔ یہ صفحہ اس کا طریقہ بیان کر رہا ہے، مشورہ نہیں دے رہا۔

روپے کا حساب خود لگانے کا طریقہ سیدھا ہے۔ ود ہولڈنگ کے بعد بچی ہوئی ڈالر رقم لیں اور اُسی دن کی شرحِ تبادلہ سے ضرب دے دیں۔ حساب آسان رکھنے کے لیے ایک فرضی مثال: خالص رقم 20 ڈالر اور شرح 1 ڈالر برابر 300 روپے، تو 20 کو 300 سے ضرب دیں اور 6,000 روپے بنے۔ یہ دونوں عدد محض مثال کے لیے گول کیے گئے ہیں، کسی دن کی اصل شرح نہیں۔ اسی لیے اس صفحے کے سارے پینل جان بوجھ کر ڈالر میں ہیں: شرح روز بدلتی ہے، اور آپ کے لیے درست شرح صرف وہی ہے جو آپ کے کھاتے کی پرچی پر لکھی آئے۔ جو عدد ہر پاکستانی کھاتے پر ایک جیسا رہتا ہے، وہ فی حصص ڈالر رقم اور کٹوتی کی فیصد ہے، اور وہی اوپر کے پینل میں ہے۔

قیمت کے مقابلے میں یِیلڈ کتنی ہے؟

ڈیویڈنڈ یِیلڈ سالانہ ڈیویڈنڈ کو حصص کی قیمت پر تقسیم کر کے نکالی جاتی ہے، اور فیصد میں لکھی جاتی ہے۔ نیچے کا پینل ہر ماہ کی اوسط بند قیمت لیتا ہے اور اس کے ساتھ گزشتہ بارہ ماہ کی ادائیگیوں کے مجموعے پر یِیلڈ دکھاتا ہے۔

استفسار کریںAAPL کی ماہانہ اوسط قیمت اور گزشتہ بارہ ماہ کے ڈیویڈنڈ پر یِیلڈ
monthmonth_labelavg_close_usdttm_yield_pct
2025-08-01Aug 2025230.330.46
2025-09-01Sep 2025242.490.44
2025-10-01Oct 2025258.30.41
2025-11-01Nov 2025271.660.39
2025-12-01Dec 2025276.310.38
2026-01-01Jan 2026257.650.41
2026-02-01Feb 2026269.180.39
2026-03-01Mar 2026254.910.42
2026-04-01Apr 2026264.690.4
2026-05-01May 2026297.540.36
2026-06-01Jun 2026296.420.36
2026-07-01Jul 2026322.290.33
2026-08-01Aug 2026310.190.34
2026-09-01Sep 2026330.630.32
ہر عدد کے پیچھے موجود درست SQL
SELECT
    toString(toStartOfMonth(d.date))                              AS month,
    formatDateTime(toStartOfMonth(d.date), '%b %Y')               AS month_label,
    round(avg(toFloat64(d.close)), 2)                             AS avg_close_usd,
    round(100 * any(t.ttm_dividend) / avg(toFloat64(d.close)), 2) AS ttm_yield_pct
FROM global_markets.stocks_daily_aggs AS d
CROSS JOIN
(
    SELECT sum(amt) AS ttm_dividend
    FROM
    (
        SELECT toFloat64(max(cash_amount)) AS amt
        FROM global_markets.stocks_dividends
        WHERE ticker = 'AAPL'
          AND ex_dividend_date > today() - 370
          AND ex_dividend_date <= today()
        GROUP BY ex_dividend_date
    )
) AS t
WHERE d.ticker = 'AAPL'
  AND d.date >= today() - 400
GROUP BY toStartOfMonth(d.date)
ORDER BY toStartOfMonth(d.date)
خود چلا کر دیکھیں

ونڈو کے آخری ماہ، Sep 2026، میں اوسط بند قیمت 330.63 ڈالر رہی اور یِیلڈ 0.32 فیصد۔ شروع میں، Aug 2025 میں، یہی یِیلڈ 0.46 فیصد تھی۔ ڈیویڈنڈ کی رقم سال میں ایک بار بدلتی ہے اور قیمت ہر سیشن میں: یِیلڈ کی لکیر کا زیادہ تر اتار چڑھاؤ قیمت کی حرکت ہے، ڈیویڈنڈ کی نہیں۔ ایک فیصد سے نیچے رہنے والی یِیلڈ اس نوعیت کے حصص میں معمول کی بات ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اس ٹکر پر نقد آمدنی کا حساب لگانے والے پڑھنے والے کو عدد چھوٹا ملتا ہے، چاہے فی حصص قیمت بڑی ہو۔

سو حصص پر سال بھر میں کتنا؟

پڑھنے والے یہ سوال عام طور پر اسی شکل میں پوچھتے ہیں: سو حصص پر سال میں کتنا آئے گا۔ نیچے کا پینل 2019 سے ہر کیلنڈر سال کی ادائیگیاں جمع کرتا ہے، سو حصص کے حساب سے، اور ساتھ 30 فیصد کٹوتی کے بعد کی خالص رقم بھی۔

استفسار کریںسال بہ سال: سو AAPL حصص پر مجموعی اور خالص ڈیویڈنڈ (ڈالر)
yeargross_usd_per_100_sharesnet_usd_per_100_shares
2019304212.8
2020261.5183.05
202186.560.55
20229163.7
20239566.5
20249969.3
202510372.1
20268056
ہر عدد کے پیچھے موجود درست SQL
SELECT
    toString(year)                  AS year,
    round(sum(amt) * 100, 2)        AS gross_usd_per_100_shares,
    round(sum(amt) * 100 * 0.70, 2) AS net_usd_per_100_shares
FROM
(
    SELECT
        toYear(ex_dividend_date)    AS year,
        toFloat64(max(cash_amount)) AS amt
    FROM global_markets.stocks_dividends
    WHERE ticker = 'AAPL'
      AND ex_dividend_date >= '2019-01-01'
      AND ex_dividend_date <= today()
    GROUP BY ex_dividend_date
)
GROUP BY year
ORDER BY year
خود چلا کر دیکھیں

2019 میں سو حصص پر مجموعی ڈیویڈنڈ 304 ڈالر تھا، اور 30 فیصد کٹوتی کے بعد 212.8 ڈالر۔ آخری قطار، 2026، جاری سال کی ہے: اس میں صرف وہ ادائیگیاں شامل ہیں جن کی ایکس ڈیویڈنڈ تاریخ گزر چکی ہے، یعنی یہ پورے سال کا عدد نہیں۔ لکیر کی سمت ماضی کا ریکارڈ ہے۔ آگے کی ادائیگیوں کا فیصلہ ہر سہ ماہی کمپنی کا بورڈ کرتا ہے، اور کوئی رقم پہلے سے طے شدہ نہیں ہوتی۔

ایکس ڈیویڈنڈ تاریخ کا مختصر اصول

ادائیگی اُس کھاتے کو ملتی ہے جس کے پاس ریکارڈ تاریخ پر حصص موجود ہوں۔ عملی اصول یہ بنتا ہے کہ خریداری ایکس ڈیویڈنڈ تاریخ سے پہلے والے سیشن تک ہو جائے۔ ایکس تاریخ کو یا اس کے بعد خریدنے والے کھاتے کو وہ سہ ماہی ادائیگی نہیں پہنچتی، وہ بیچنے والے کے پاس رہ جاتی ہے۔ امریکی حصص کی سیٹلمنٹ T+1 ہے۔ پوری ترتیب، تینوں تاریخوں کے فرق کے ساتھ، ایکس ڈیویڈنڈ تاریخ کیا ہے میں کھلی ہوئی ہے۔

ڈیٹا نوٹس
  • تمام رقمیں امریکی ڈالر میں ہیں اور کارپوریٹ ایکشنز سیریز سے سیدھی آتی ہیں، یعنی فی حصص اعلان کردہ نقد رقم۔
  • کٹوتی کا حساب 30 فیصد قانونی شرح مان کر لگایا گیا ہے۔ اگر آپ کے بروکر کے پاس رعایتی معاہدہ شرح ریکارڈ پر ہو تو کٹوتی کم اور خالص رقم زیادہ ہوگی؛ پینل کا ڈھانچہ وہی رہے گا۔
  • کسی پینل میں روپے کا عدد نہیں۔ شرحِ تبادلہ اس صفحے کی ڈیٹا سیریز کا حصہ نہیں، اور اوپر مثال میں دیے گئے 300 روپے فرضی ہیں۔
  • جاری کیلنڈر سال کا مجموعہ نامکمل ہے: اس میں صرف گزری ہوئی ایکس ڈیویڈنڈ تاریخیں گنی گئی ہیں۔
  • ہر پینل کے نیچے اُسی پینل کی اصل SQL کھلتی ہے، تاکہ ہر عدد کی گنتی پڑھی جا سکے۔

FAQ

AAPL ایک حصص پر کتنا ڈیویڈنڈ دیتا ہے؟

تازہ ترین سہ ماہی ادائیگی فی حصص 0.27 ڈالر تھی، جس کی ایکس ڈیویڈنڈ تاریخ Aug 10, 2026 رہی۔ سال میں چار ادائیگیاں ہوتی ہیں اور رقم عموماً سال میں ایک بار بدلی جاتی ہے۔

پاکستانی کھاتے پر امریکی ڈیویڈنڈ سے کتنی کٹوتی ہوتی ہے؟

غیر امریکی کھاتے کے لیے قانونی شرح 30 فیصد ہے اور بروکر یہ رقم ادائیگی کے وقت منبع پر کاٹ لیتا ہے۔ کم شرح صرف اُس صورت میں لگتی ہے جب بروکر کے پاس آپ کا W-8BEN اور متعلقہ معاہدے کی شرح ریکارڈ پر ہو، اس لیے اپنی شرح بروکر سے تصدیق کروائیں۔

ڈیویڈنڈ روپوں میں آتا ہے یا ڈالر میں؟

ڈالر میں۔ رقم آپ کے بروکریج کھاتے کے کیش بیلنس میں جمع ہوتی ہے، کسی پاکستانی بینک اکاؤنٹ میں روپوں کی صورت نہیں۔ روپے میں تبدیلی نکلواتے وقت ہوتی ہے، اُس دن کی بروکر یا بینک کی شرح پر۔

کیا مجھے امریکہ میں ٹیکس ریٹرن جمع کرانا پڑتا ہے؟

عام طور پر نہیں، کیونکہ ود ہولڈنگ منبع پر ہو جاتی ہے اور کھاتے میں کٹوتی کے بعد کی رقم آتی ہے۔ اپنی پاکستانی ٹیکس ذمہ داری کے بارے میں اپنے ٹیکس مشیر سے رجوع کریں۔

ایکس ڈیویڈنڈ تاریخ کو خریدنے پر ادائیگی ملتی ہے؟

نہیں۔ ایکس تاریخ کو یا اس کے بعد خریدے گئے حصص پر وہ سہ ماہی ادائیگی نہیں ملتی۔ اگلی سہ ماہی کے لیے آپ کا حصص شمار ہو جاتا ہے۔


اوپر کا ہر عدد اپنی SQL کے ساتھ کھلا پڑا ہے۔ اپنے حصص کی تعداد ڈال کر یہی حساب، یا کسی اور ٹکر کا، Strasmore ٹرمینل پر سادہ زبان میں پوچھا جا سکتا ہے۔

#dividends#aapl#pakistan#withholding tax#pkr