AAPL ڈیویڈنڈ: پاکستانی سرمایہ کار کو کیا ملتا ہے
ایک AAPL حصص پر سہ ماہی ڈیویڈنڈ کتنا ہے، 30 فیصد امریکی ود ہولڈنگ کے بعد کھاتے میں کیا پہنچتا ہے، اور پاکستانی سرمایہ کار اسے روپوں میں کیسے گنتا ہے۔
اگر آپ پاکستان میں بیٹھ کر Apple کا ایک حصص رکھتے ہیں تو AAPL ڈیویڈنڈ آپ کے بروکریج کھاتے میں ہر سہ ماہی امریکی ڈالر کیش کی صورت آتا ہے، روپوں میں نہیں۔ تازہ ترین ادائیگی فی حصص 0.27 ڈالر رہی، جس کی ایکس ڈیویڈنڈ تاریخ Aug 10, 2026 اور ادائیگی کی تاریخ Aug 13, 2026 تھی۔ غیر امریکی (نان ریزیڈنٹ) کھاتے پر امریکہ کی قانونی ود ہولڈنگ شرح 30 فیصد ہے، اور اس کٹوتی کے بعد فی حصص 0.189 ڈالر کھاتے میں بچتا ہے۔
AAPL کا سہ ماہی ڈیویڈنڈ اس وقت کتنا ہے؟
ڈیویڈنڈ کمپنی کے منافع کا وہ حصہ ہے جو حصص داروں کو نقد ادا کیا جاتا ہے۔ Apple یہ ادائیگی سال میں چار بار کرتی ہے اور رقم ہمیشہ فی حصص کے حساب سے اعلان ہوتی ہے، یعنی آپ کے حصص کی تعداد سے ضرب دے کر آپ کی رقم بنتی ہے۔ نیچے کا پینل 2022 سے اب تک کی ہر ادائیگی ایکس ڈیویڈنڈ تاریخ کے ساتھ دکھاتا ہے۔
| ex_date | ex_label | pay_label | usd_per_share |
|---|---|---|---|
| 2022-02-04 | Feb 4, 2022 | Feb 10, 2022 | 0.22 |
| 2022-05-06 | May 6, 2022 | May 12, 2022 | 0.23 |
| 2022-08-05 | Aug 5, 2022 | Aug 11, 2022 | 0.23 |
| 2022-11-04 | Nov 4, 2022 | Nov 10, 2022 | 0.23 |
| 2023-02-10 | Feb 10, 2023 | Feb 16, 2023 | 0.23 |
| 2023-05-12 | May 12, 2023 | May 18, 2023 | 0.24 |
| 2023-08-11 | Aug 11, 2023 | Aug 17, 2023 | 0.24 |
| 2023-11-10 | Nov 10, 2023 | Nov 16, 2023 | 0.24 |
| 2024-02-09 | Feb 9, 2024 | Feb 15, 2024 | 0.24 |
| 2024-05-10 | May 10, 2024 | May 16, 2024 | 0.25 |
| 2024-08-12 | Aug 12, 2024 | Aug 15, 2024 | 0.25 |
| 2024-11-08 | Nov 8, 2024 | Nov 14, 2024 | 0.25 |
| 2025-02-10 | Feb 10, 2025 | Feb 13, 2025 | 0.25 |
| 2025-05-12 | May 12, 2025 | May 15, 2025 | 0.26 |
| 2025-08-11 | Aug 11, 2025 | Aug 14, 2025 | 0.26 |
| 2025-11-10 | Nov 10, 2025 | Nov 13, 2025 | 0.26 |
| 2026-02-09 | Feb 9, 2026 | Feb 12, 2026 | 0.26 |
| 2026-05-11 | May 11, 2026 | May 14, 2026 | 0.27 |
| 2026-08-10 | Aug 10, 2026 | Aug 13, 2026 | 0.27 |
ہر عدد کے پیچھے موجود درست SQL
SELECT
toString(ex_dividend_date) AS ex_date,
formatDateTime(ex_dividend_date, '%b %e, %Y') AS ex_label,
formatDateTime(max(pay_date), '%b %e, %Y') AS pay_label,
round(toFloat64(max(cash_amount)), 4) AS usd_per_share
FROM global_markets.stocks_dividends
WHERE ticker = 'AAPL'
AND ex_dividend_date >= '2022-01-01'
AND ex_dividend_date <= today()
GROUP BY ex_dividend_date
ORDER BY ex_dividend_dateاس فہرست میں 19 ادائیگیاں ہیں۔ پہلی قطار Feb 4, 2022 کی ہے، جہاں رقم 0.22 ڈالر فی حصص تھی، اور آخری قطار میں یہی رقم 0.27 ڈالر ہے۔ لکیر سیدھی نہیں، زینے کی شکل میں چڑھتی ہے: رقم عموماً سال میں ایک بار بدلتی ہے اور باقی تین سہ ماہیوں میں وہی عدد دہرایا جاتا ہے۔ ہر قطار میں دو تاریخیں الگ ہیں، ایکس ڈیویڈنڈ تاریخ اور ادائیگی کی تاریخ، اور نقد رقم کھاتے میں دوسری تاریخ پر آتی ہے۔ پوری ترتیب ایپل کا ڈیویڈنڈ اور اس کا شیڈول میں اور ایک ایک ادائیگی کا ریکارڈ AAPL ڈیویڈنڈ کی مکمل تاریخ میں موجود ہے۔
30 فیصد امریکی ود ہولڈنگ کے بعد ہاتھ میں کیا آتا ہے؟
امریکی حصص سے ملنے والا ڈیویڈنڈ امریکہ سے باہر رہنے والے کھاتے دار کے لیے نان ریزیڈنٹ آمدنی شمار ہوتا ہے۔ اس پر قانونی شرح 30 فیصد ہے اور یہ کٹوتی بروکر منبع پر خود کر لیتا ہے۔ آپ کے کھاتے میں کبھی پوری رقم آ کر پھر واپس نہیں جاتی: جو جمع ہوتا ہے وہ کٹوتی کے بعد کا عدد ہوتا ہے۔
| ex_date | ex_label | gross_usd_per_share | withheld_usd_per_share | net_usd_per_share |
|---|---|---|---|---|
| 2026-08-10 | Aug 10, 2026 | 0.27 | 0.081 | 0.189 |
| 2026-05-11 | May 11, 2026 | 0.27 | 0.081 | 0.189 |
| 2026-02-09 | Feb 9, 2026 | 0.26 | 0.078 | 0.182 |
| 2025-11-10 | Nov 10, 2025 | 0.26 | 0.078 | 0.182 |
ہر عدد کے پیچھے موجود درست SQL
SELECT
toString(ex_dividend_date) AS ex_date,
formatDateTime(ex_dividend_date, '%b %e, %Y') AS ex_label,
round(toFloat64(max(cash_amount)), 4) AS gross_usd_per_share,
round(toFloat64(max(cash_amount)) * 0.30, 4) AS withheld_usd_per_share,
round(toFloat64(max(cash_amount)) * 0.70, 4) AS net_usd_per_share
FROM global_markets.stocks_dividends
WHERE ticker = 'AAPL'
AND ex_dividend_date <= today()
GROUP BY ex_dividend_date
ORDER BY ex_dividend_date DESC
LIMIT 4تازہ ترین ادائیگی پر مجموعی رقم 0.27 ڈالر فی حصص تھی۔ اس میں سے 0.081 ڈالر ود ہولڈنگ میں گیا اور 0.189 ڈالر کھاتے میں پہنچا۔ حساب لکیری ہے: سو حصص پر یہی تینوں اعداد سو گنا ہو جاتے ہیں، اور پانچ سو حصص پر پانچ سو گنا۔
کھاتہ کھولتے وقت بروکر آپ سے W-8BEN فارم بھرواتا ہے۔ یہ فارم آپ کی غیر امریکی رہائشی حیثیت ریکارڈ پر لاتا ہے۔ فارم موجود نہ ہونے کی صورت میں بروکر بیک اپ ود ہولڈنگ لگا سکتا ہے، جو 30 فیصد سے بھی بھاری بیٹھتی ہے۔ بعض ممالک کے امریکہ کے ساتھ ٹیکس معاہدے ہیں جن کے تحت شرح 30 فیصد سے کم ہو جاتی ہے، مگر رعایتی شرح صرف اُسی صورت میں لگتی ہے جب آپ کے بروکر کے پاس آپ کا مکمل فارم اور متعلقہ معاہدے کی شرح ریکارڈ پر ہو۔ اس صفحے پر پاکستان کے لیے کوئی مخصوص معاہدہ شرح نہیں دی جا رہی: اپنے بروکر کے ٹیکس سیکشن سے اور اپنے ٹیکس مشیر سے تصدیق کروا لیں۔ حساب کا ڈھانچہ دونوں صورتوں میں ایک ہی رہتا ہے، صرف کٹوتی کی فیصد بدلتی ہے۔ عمومی اصول غیر امریکی سرمایہ کاروں پر ڈیویڈنڈ ود ہولڈنگ ٹیکس میں تفصیل سے لکھے ہیں۔
یہ ڈالر روپوں میں کیا بنتے ہیں؟
پہلی بات صاف ہونی چاہیے۔ ڈیویڈنڈ آپ کے پاکستانی بینک اکاؤنٹ میں روپوں کی شکل میں نہیں آتا۔ یہ آپ کے بروکریج کھاتے کے کیش بیلنس میں ڈالر بن کر بیٹھ جاتا ہے۔ وہیں سے آپ اسے دوبارہ حصص خریدنے میں لگا سکتے ہیں، وہیں رہنے دے سکتے ہیں، یا اپنے بروکر کے بتائے ہوئے راستے سے پاکستان منگوا سکتے ہیں۔ روپے میں تبدیلی اُس دن ہوتی ہے جس دن نکلوانے کی درخواست پر عمل ہوتا ہے، اور شرح وہی لگتی ہے جو آپ کا بروکر یا وصول کرنے والا بینک اس دن لگاتا ہے۔ بیرونِ ملک سرمایہ کاری اور رقم کی واپسی سے جڑی کاغذی کارروائی اسٹیٹ بینک کے مقرر کردہ راستے اور آپ کے بروکر کی شرائط کے تحت چلتی ہے۔ یہ صفحہ اس کا طریقہ بیان کر رہا ہے، مشورہ نہیں دے رہا۔
روپے کا حساب خود لگانے کا طریقہ سیدھا ہے۔ ود ہولڈنگ کے بعد بچی ہوئی ڈالر رقم لیں اور اُسی دن کی شرحِ تبادلہ سے ضرب دے دیں۔ حساب آسان رکھنے کے لیے ایک فرضی مثال: خالص رقم 20 ڈالر اور شرح 1 ڈالر برابر 300 روپے، تو 20 کو 300 سے ضرب دیں اور 6,000 روپے بنے۔ یہ دونوں عدد محض مثال کے لیے گول کیے گئے ہیں، کسی دن کی اصل شرح نہیں۔ اسی لیے اس صفحے کے سارے پینل جان بوجھ کر ڈالر میں ہیں: شرح روز بدلتی ہے، اور آپ کے لیے درست شرح صرف وہی ہے جو آپ کے کھاتے کی پرچی پر لکھی آئے۔ جو عدد ہر پاکستانی کھاتے پر ایک جیسا رہتا ہے، وہ فی حصص ڈالر رقم اور کٹوتی کی فیصد ہے، اور وہی اوپر کے پینل میں ہے۔
قیمت کے مقابلے میں یِیلڈ کتنی ہے؟
ڈیویڈنڈ یِیلڈ سالانہ ڈیویڈنڈ کو حصص کی قیمت پر تقسیم کر کے نکالی جاتی ہے، اور فیصد میں لکھی جاتی ہے۔ نیچے کا پینل ہر ماہ کی اوسط بند قیمت لیتا ہے اور اس کے ساتھ گزشتہ بارہ ماہ کی ادائیگیوں کے مجموعے پر یِیلڈ دکھاتا ہے۔
| month | month_label | avg_close_usd | ttm_yield_pct |
|---|---|---|---|
| 2025-08-01 | Aug 2025 | 230.33 | 0.46 |
| 2025-09-01 | Sep 2025 | 242.49 | 0.44 |
| 2025-10-01 | Oct 2025 | 258.3 | 0.41 |
| 2025-11-01 | Nov 2025 | 271.66 | 0.39 |
| 2025-12-01 | Dec 2025 | 276.31 | 0.38 |
| 2026-01-01 | Jan 2026 | 257.65 | 0.41 |
| 2026-02-01 | Feb 2026 | 269.18 | 0.39 |
| 2026-03-01 | Mar 2026 | 254.91 | 0.42 |
| 2026-04-01 | Apr 2026 | 264.69 | 0.4 |
| 2026-05-01 | May 2026 | 297.54 | 0.36 |
| 2026-06-01 | Jun 2026 | 296.42 | 0.36 |
| 2026-07-01 | Jul 2026 | 322.29 | 0.33 |
| 2026-08-01 | Aug 2026 | 310.19 | 0.34 |
| 2026-09-01 | Sep 2026 | 330.63 | 0.32 |
ہر عدد کے پیچھے موجود درست SQL
SELECT
toString(toStartOfMonth(d.date)) AS month,
formatDateTime(toStartOfMonth(d.date), '%b %Y') AS month_label,
round(avg(toFloat64(d.close)), 2) AS avg_close_usd,
round(100 * any(t.ttm_dividend) / avg(toFloat64(d.close)), 2) AS ttm_yield_pct
FROM global_markets.stocks_daily_aggs AS d
CROSS JOIN
(
SELECT sum(amt) AS ttm_dividend
FROM
(
SELECT toFloat64(max(cash_amount)) AS amt
FROM global_markets.stocks_dividends
WHERE ticker = 'AAPL'
AND ex_dividend_date > today() - 370
AND ex_dividend_date <= today()
GROUP BY ex_dividend_date
)
) AS t
WHERE d.ticker = 'AAPL'
AND d.date >= today() - 400
GROUP BY toStartOfMonth(d.date)
ORDER BY toStartOfMonth(d.date)ونڈو کے آخری ماہ، Sep 2026، میں اوسط بند قیمت 330.63 ڈالر رہی اور یِیلڈ 0.32 فیصد۔ شروع میں، Aug 2025 میں، یہی یِیلڈ 0.46 فیصد تھی۔ ڈیویڈنڈ کی رقم سال میں ایک بار بدلتی ہے اور قیمت ہر سیشن میں: یِیلڈ کی لکیر کا زیادہ تر اتار چڑھاؤ قیمت کی حرکت ہے، ڈیویڈنڈ کی نہیں۔ ایک فیصد سے نیچے رہنے والی یِیلڈ اس نوعیت کے حصص میں معمول کی بات ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اس ٹکر پر نقد آمدنی کا حساب لگانے والے پڑھنے والے کو عدد چھوٹا ملتا ہے، چاہے فی حصص قیمت بڑی ہو۔
سو حصص پر سال بھر میں کتنا؟
پڑھنے والے یہ سوال عام طور پر اسی شکل میں پوچھتے ہیں: سو حصص پر سال میں کتنا آئے گا۔ نیچے کا پینل 2019 سے ہر کیلنڈر سال کی ادائیگیاں جمع کرتا ہے، سو حصص کے حساب سے، اور ساتھ 30 فیصد کٹوتی کے بعد کی خالص رقم بھی۔
| year | gross_usd_per_100_shares | net_usd_per_100_shares |
|---|---|---|
| 2019 | 304 | 212.8 |
| 2020 | 261.5 | 183.05 |
| 2021 | 86.5 | 60.55 |
| 2022 | 91 | 63.7 |
| 2023 | 95 | 66.5 |
| 2024 | 99 | 69.3 |
| 2025 | 103 | 72.1 |
| 2026 | 80 | 56 |
ہر عدد کے پیچھے موجود درست SQL
SELECT
toString(year) AS year,
round(sum(amt) * 100, 2) AS gross_usd_per_100_shares,
round(sum(amt) * 100 * 0.70, 2) AS net_usd_per_100_shares
FROM
(
SELECT
toYear(ex_dividend_date) AS year,
toFloat64(max(cash_amount)) AS amt
FROM global_markets.stocks_dividends
WHERE ticker = 'AAPL'
AND ex_dividend_date >= '2019-01-01'
AND ex_dividend_date <= today()
GROUP BY ex_dividend_date
)
GROUP BY year
ORDER BY year2019 میں سو حصص پر مجموعی ڈیویڈنڈ 304 ڈالر تھا، اور 30 فیصد کٹوتی کے بعد 212.8 ڈالر۔ آخری قطار، 2026، جاری سال کی ہے: اس میں صرف وہ ادائیگیاں شامل ہیں جن کی ایکس ڈیویڈنڈ تاریخ گزر چکی ہے، یعنی یہ پورے سال کا عدد نہیں۔ لکیر کی سمت ماضی کا ریکارڈ ہے۔ آگے کی ادائیگیوں کا فیصلہ ہر سہ ماہی کمپنی کا بورڈ کرتا ہے، اور کوئی رقم پہلے سے طے شدہ نہیں ہوتی۔
ایکس ڈیویڈنڈ تاریخ کا مختصر اصول
ادائیگی اُس کھاتے کو ملتی ہے جس کے پاس ریکارڈ تاریخ پر حصص موجود ہوں۔ عملی اصول یہ بنتا ہے کہ خریداری ایکس ڈیویڈنڈ تاریخ سے پہلے والے سیشن تک ہو جائے۔ ایکس تاریخ کو یا اس کے بعد خریدنے والے کھاتے کو وہ سہ ماہی ادائیگی نہیں پہنچتی، وہ بیچنے والے کے پاس رہ جاتی ہے۔ امریکی حصص کی سیٹلمنٹ T+1 ہے۔ پوری ترتیب، تینوں تاریخوں کے فرق کے ساتھ، ایکس ڈیویڈنڈ تاریخ کیا ہے میں کھلی ہوئی ہے۔
ڈیٹا نوٹس
- تمام رقمیں امریکی ڈالر میں ہیں اور کارپوریٹ ایکشنز سیریز سے سیدھی آتی ہیں، یعنی فی حصص اعلان کردہ نقد رقم۔
- کٹوتی کا حساب 30 فیصد قانونی شرح مان کر لگایا گیا ہے۔ اگر آپ کے بروکر کے پاس رعایتی معاہدہ شرح ریکارڈ پر ہو تو کٹوتی کم اور خالص رقم زیادہ ہوگی؛ پینل کا ڈھانچہ وہی رہے گا۔
- کسی پینل میں روپے کا عدد نہیں۔ شرحِ تبادلہ اس صفحے کی ڈیٹا سیریز کا حصہ نہیں، اور اوپر مثال میں دیے گئے 300 روپے فرضی ہیں۔
- جاری کیلنڈر سال کا مجموعہ نامکمل ہے: اس میں صرف گزری ہوئی ایکس ڈیویڈنڈ تاریخیں گنی گئی ہیں۔
- ہر پینل کے نیچے اُسی پینل کی اصل SQL کھلتی ہے، تاکہ ہر عدد کی گنتی پڑھی جا سکے۔
FAQ
AAPL ایک حصص پر کتنا ڈیویڈنڈ دیتا ہے؟
تازہ ترین سہ ماہی ادائیگی فی حصص 0.27 ڈالر تھی، جس کی ایکس ڈیویڈنڈ تاریخ Aug 10, 2026 رہی۔ سال میں چار ادائیگیاں ہوتی ہیں اور رقم عموماً سال میں ایک بار بدلی جاتی ہے۔
پاکستانی کھاتے پر امریکی ڈیویڈنڈ سے کتنی کٹوتی ہوتی ہے؟
غیر امریکی کھاتے کے لیے قانونی شرح 30 فیصد ہے اور بروکر یہ رقم ادائیگی کے وقت منبع پر کاٹ لیتا ہے۔ کم شرح صرف اُس صورت میں لگتی ہے جب بروکر کے پاس آپ کا W-8BEN اور متعلقہ معاہدے کی شرح ریکارڈ پر ہو، اس لیے اپنی شرح بروکر سے تصدیق کروائیں۔
ڈیویڈنڈ روپوں میں آتا ہے یا ڈالر میں؟
ڈالر میں۔ رقم آپ کے بروکریج کھاتے کے کیش بیلنس میں جمع ہوتی ہے، کسی پاکستانی بینک اکاؤنٹ میں روپوں کی صورت نہیں۔ روپے میں تبدیلی نکلواتے وقت ہوتی ہے، اُس دن کی بروکر یا بینک کی شرح پر۔
کیا مجھے امریکہ میں ٹیکس ریٹرن جمع کرانا پڑتا ہے؟
عام طور پر نہیں، کیونکہ ود ہولڈنگ منبع پر ہو جاتی ہے اور کھاتے میں کٹوتی کے بعد کی رقم آتی ہے۔ اپنی پاکستانی ٹیکس ذمہ داری کے بارے میں اپنے ٹیکس مشیر سے رجوع کریں۔
ایکس ڈیویڈنڈ تاریخ کو خریدنے پر ادائیگی ملتی ہے؟
نہیں۔ ایکس تاریخ کو یا اس کے بعد خریدے گئے حصص پر وہ سہ ماہی ادائیگی نہیں ملتی۔ اگلی سہ ماہی کے لیے آپ کا حصص شمار ہو جاتا ہے۔
اوپر کا ہر عدد اپنی SQL کے ساتھ کھلا پڑا ہے۔ اپنے حصص کی تعداد ڈال کر یہی حساب، یا کسی اور ٹکر کا، Strasmore ٹرمینل پر سادہ زبان میں پوچھا جا سکتا ہے۔